Friday, 2 June 2017

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی مولاناحسن تاج فاضل جامعہ فاروقیہ کراچی

خانگی زندگی کسی بھی معاشر ے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،اسی سے خاندانوں کے خاندان جنم لیتے ہیں جو بالآخر مستقل معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ،جس کا اپنا تہذیب و تمدن ہوتا ہے۔ اس خانگی زندگی کی اساس دو رکنی بندھن ہے۔جب حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے صدقے اسلامی معاشرے کی تعمیر نو کا مرحلہ آیا تو خانگی زندگی کی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے ایسے عملی نمونے کی ضرورت تھی ،جس میں مردوزن کے حقوق کا توازن برقرار رہتا اوراس کی بدولت جہالت کی بھینٹ چڑھنے والی مظلوم نسوانیت کو ا س کا حقیقی مقام مل جاتا ۔یہ عملی نمونہ دو کرداروں سے وجود میں آیا ۔ ۱۔مردانہ کردار: جس نے نسوانی کج اداؤں کو بڑی فراخ دلی سے برداشت کرتے ہوئے صبرو تحمل ،محبت و دل جوئی کے حسین ترین جوہر دکھلائے اور ان کے تخلیقی مزاج کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی۔ ۲۔نسوانی کردار: جس نے تقویٰ و احسان کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے نازک نسوانی نفسیات کا کھلی آزادی سے اظہار کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کے لیے اطاعت و سپردگی ،درستگی اوررفتگی پر آنچ نہ آنے دی۔ پہلا کردار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس تھی اور دوسرا کردار امہات المؤمنین کی وہ مبارک جماعت تھی جس کا چناؤ خود باری تعالیٰ نے کیا تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر یلو محبوبانہ زندگی فقط مثال ہے ،کبھی کسی بیوی کے لیے زبان مبارک سے تلخ جملہ نہیں نکالا،برابری و مساوات کا بڑالحاظ رکھتے تھے حالاں کہ یہ حکم آپ کے لیے نہ تھا۔روزانہ عصر کے بعد تمام ازواج مطہرات کی خبر گیری فرماتے ،روزانہ رات کا کھانا سب کے ساتھ تناول فرماتے ۔دلجوئی کا یہ عالم تھا کہ امی عائشہؓ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا،ایک بار وہ جیت گئیں تو دوسری بار آپ جیت گئے،پھر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس جیت کا بدلہ ہے۔ اپنی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود امی عائشہؓ کی دلچسپی کی وجہ سے انہیں دیر تک حبشیوں کے کھیل دکھاتے رہے ۔اورتو اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈر سے بھاگ جانے والی امی عائشہؓ کی سہیلیوں کو آپ خود لے کر آتے تاکہ وہ امی جان کے ساتھ کھیلیں ۔دل لگی کی مثال خود امی عائشہؓ کی زبانی ملاحظہ کریں، فرماتی ہیں :’’ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے جب ہم مقام قاحتہ میں پہنچے تو میں نے نکلتے وقت جو پیلے رنگ کی خوشبو سر میں لگائی تھی ،وہ پھیل کر چہرے پر آگئی تھی تو آپ ؐؐ نے فرمایا: اے صفیراء! اب تو تمہاری رنگ بہت اچھی لگ رہی ہے‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کی محبوبانہ خفگی کو بھی ملحوظ رکھتے تھے ،ایک مرتبہ کسی معاملے میں امی عائشہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’اِقصد‘‘’’ٹھیک ٹھیک کہنا‘‘کہہ دیا تو ابو بکر صدیقؓ نے ایک زناٹے دار تھپڑ انہیں مارا، تو امی جان کی ناک سے خون بہنے لگا،تو حضور ؐ اپنے ہاتھ مبارک سے خون دھورہے تھے اور فرما رہے تھے ’’ہم ہر گز یہ نہیں چاہتے تھے‘‘۔ذرا دیکھیں تو سہی کہ’’اقصد‘‘کی سلوٹوں میں محبوبانہ خفگی کی جونزاکتیں یہاں تھیں انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کون پہنچان سکتا تھا۔تبھی تو شفقت اور پیار سے خون دھو رہے تھے ۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کے سو کنانہ مزاج کو کبھی نظر انداز نہ کیا یہی وجہ تھی کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم امی عائشہؓ کے گھر تشریف لے گئے تو امی جان نے پوچھا کہ سارا دن کہاں تھے تو فرمایا کہ ام سلمہؓ کے یہاں تھا ،تو آپؓ نے فرمایا کہ ام سلمہؓ سے آپ کا جی نہیں بھرتا؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسکراہٹ سے جواب دیا۔آپؐ کے معاملات میں آپ ان سے باز پرس کرتے ۔ایک بارجب امی عائشہؓ نے امی صفیہؓ کے چھوٹے قدکی طرف اشارہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی ۔اسی طرح حضرت زینبؓ سے کسی معاملے میں ناراض ہوئے پھر کئی دن تک بات نہ فرمائی ۔غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر گوشے پر نظر رکھ کر بہترین اسوۂ حسنہ امت کو ودیعت کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھا دیکھی صحابہ میں بھی ازدواجی زندگی کا خوشگوار ماحول بننے لگا ۔یوں اس میں دو رکنی بندھن سے میدان کے شہ سواروں ،ایک ایک سنت کے لیے مرمٹنے والوں نے جنم لیا اور بالآخر اسلامی معاشرہ ترقی کرتا کرتا اوج تک جا پہنچا اور چار دانگِ عالم اس کا چرچہ ہونے لگا۔

No comments:

Post a Comment