Wednesday, 6 December 2017
عطائے خداوندی.................................................................................................,,
ربیع الاوّل کا مبارک مہینہ وہ عظیم موقع ہے جس میں آج سے چودہ سو اکیانوے سال پہلے بی بی آمنہ کے دُرِّ یتیم ،عبدالمطلب کے نورِ چشم ،بیواؤں اور یتیموں کے ماواوملجااور اخلاق حسنہ کے عظیم پیکر نے ذبیح الثانی کے گھر میں آنکھ کھولی۔تب ایک نور چمکا ،ستارے سجدہ شکر ادا کرنے کیلئے زمین کو چومنے لگے ،ایک زلزلے سے کِسری کے چودہ کنگرے گر گئے،فارس کا آتش کدہ بجھ گیا ،قصرِ کسری کی سطوت پارہ پارہ ہوگئی،فراعنہ وقت کی کشتیاں ڈوبنے لگیں ،شیطان نے سر پر مٹی ڈالی ۔لیکن آنے والے آ چکے تھے ،ابو لہب کی باندی ثوبیہ کو آزادی مل چکی تھی ،جناب عبداللہ کا ذبیح اللہ ثانی بننے کا راز کھل چکا تھا،حلیمہ کی خوش بختی یقینی بن چکی تھی ،اہل مکہ کو آپس کے فیصلوں اور امانتوں کیلئے صادق و امین مل چکا تھا ،
دنیا بھر کی انسانیت کے عظیم مبلغ کی نشونما شروع ہو چکی تھی اور ریاست مدینہ کا سپہ سالار آج ۵۷۱ء کوآمنہ نے گود لے لیا تھا۔
آپ کی تشریف آوری دنیا بھر کے انسانوں کیلئے خدا کا عظیم تحفہ تھا،کیوں کہ اس وقت کوئی مذہب اپنی اصلی حالت پر موجود نہ تھا،دنیا سے علم وعرفان عنقاء ہو چکا تھا،حتی کے فارس کے سلمان کو صرف چار ہی ایسے لوگ مل سکے جن میں علم کی رقم باقی تھی ۔اقوام عالم کی حالت یہ تھی کہ دینِ مسیحیت کا باقی رہنے والا ہلکا سا خاکہ بھی "سینٹ پال " نے خرافات سے بدل ڈالا تھا ،ادھر رومی سلطنت فطرت مسیح کے اختلاف پر باہم دست و گریباں تھی ،محصولات سے تنگ آکر علاقائی حکومتیں پروان چڑھ رہی تھیں ،اہل یورپ تمدنِ انسانی سے الگ تھلگ جہالت میں پڑے ہوئے تھے ،یہود کے پاس دینی سرمایا موجود تھا مگر غلامی نے ان میں بے جا غرور ،تکبر اور حوص کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا،ایران (جو تمدن دنیا پر فوقیت رکھتا تھا) شاہ پرستی ،قوم پرستی اور اتباعِ خواہشات نے انہیں اصلاحِ معاشرہ سے غافل رکھا اور خود عربوں میں جہالت ،ڈاکہ زنی اور شراب نوشی عروج پر تھی۔ان کی جاہلیت
کے متعلق حالی کہتا ہے۔
نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی نہ یونان کے علم و عرفان کی خبر تھی
وہی اپنے فطرت پہ طبع بشر تھی خُدا کی زمین بن جتی سربسر تھی
عرب کی مذہبی حالت کچھ یوں تھی۔
کہیں آگ بجھتی تھی واں بے محابا کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا
بہت سے قصے تثلیث پر دل سے شیوا بتوں کا عمل سو بسو جا بجا تھا
یقیناً اس وقت معاشرے کو ایسی معاشرت ،سماج ،عدالت اور قوانین کی بنیادوں پر قائم کرنے کی ضرورت تھی جس کی آبیاری ایمان کی حرارت سے ہوئی ہو،جس میں
معاشرہ ایک ذات اور ایک مرکز کا پابند ہو ،یہی سبب تھا اللہ تعالی نے اپنی چیدہ ہستیوں میں سے آپ ﷺ کو چن کر مبعوث فرمایا۔
یکا یک ہوئی غیرت حق کو حرکت بڑھا جانبِ بو قبیس ابرِ رحمت
ادا خاکِ بطحا نے کی وہ ودیعت چلے آئے تھے جس کی دیتے شہادت
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا دعائے خلیل اور نوید مسیحا
آپ کے اسوۃ کو تاقیامت انسانوں کیلئے بہترین اسوۃ قرار دیا۔صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے ہر قول و عمل کو محفوظ کیا ۔دنیا میں بڑی بڑی شخصیات آئیں ،مگر اُن کی سیرت ہم سے مخفی رہی،ہمیں انبیاء کرام کی بہت کم معلومات حاصل ہے ۔اسکندر، فیثا غورث اور ابن سینا کی زندگیوں کے کتنے گوشے ہیں جس کا ہمیں کچھ بھی علم نہیں۔لیکن
حضور ﷺ کے نہ صرف معرکے محفوظ ہیں بلکہ آپ ﷺ کی داڑھی میں سفید بالوں کی تعداد ،چہرے کاخدوخال ،بالوں کا انداز ،گھریلو زندگی اور چھوٹے چھوٹے آداب سب
محفوظ ہیں ۔آپ کی سیرت سے ہمیں قریش کے نسب نامہ کا علم ہوا ،حلیمہ اور آمنہ کو احوال معلوم ہوئے اور مکہ کی تمدنی و اخلاقی تاریخ کا علم ہوا۔یہ ایک عظیم عطائے خداوندی تھا،اللہ کی نعمتوں کی آخری انتہا تھی کہ آپ کی تشریف آوری سے انسانوں کو تمدنی اصطلاحات معلوم ہو گئیں،اپنوں اور غیروں سے متعلق کا علم ہوا ،چھوٹے اور بڑوں کے حقوق کا علم ہوا،دنیا میں عظیم انقلاب برپا ہواافلاطون کا نظریہ قتل و غارت (مفلوج) ہوگیا۔انسانیت امن کے زاویوں سے ہمکنار ہوئی۔انسانوں کی بھنور میں پھسی کشتی ساحل پر لنگر انداز ہوئی ۔دنیا
میں علوم و فنون کا عظیم انقلاب برپا ہوا،کیونکہ
یہ کہہ کر کیا علم پران کو شیوا کہ ہیں دور رحمت سے سب اہل دنیا
مگر دھیان ہے سب کو ہر دم خدا کا ہے تعلیم کا یا سوا جن میں چرچا
انہیں کیلئے یاں ہے نعمت خدا کی انہیں پر ہے واں جاسح رحمت خدا کی
آپﷺکے بچپن سے وفات تک کی پوری زندگی وہ عظیم گلدستہ ہے جس میں تاقیامت انسانوں کیلئے سبق موجود ہے،آپ کو امین وصادق کہلانے سے لیکر دربار قیصر میں ابو سفیان کی گواہی تک،طائف کے زخموں سے لیکر فتح مکہ کی عزیمتوں تک اور پیدائش سے لیکر وفات تک آپﷺ کی سیرت کے بے شمار پہلو ایسے ہیں جس پر ہزاروں کتابیں
لکھ چکنے کے بعد بھی کسی نے حق کی ادائیگی کا دعوی نہیں کیا۔
اللہ تعالی ہمیں اسوۂ رسول اکرم ﷺ پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment